Hurrem Sultan History in Urdu | حریم سلطان


 السلام علیکم ، سلطنتِ عثمانیہ کے شروعاتی دور میں دو صدیوں تک مرد حکمران ہی غالب رہے، سلطان سلیمان دی گریٹ کے دور میں پہلی مرتبہ یہ انقلابی تبدیلی رونما ہوئی کہ ایک عورت نے  ناں صرف سلطان بلکہ تمام سلطنتِ عثمانیہ پر حکمرانی کی.اس کا نام حریم سلطان تھا. اردو میں خرم سلطان بھی کہا جاتا ہے.

Hurrem-Sultan-urdu
 

 : Hurrem Sultan History in Urdu

حریم سلطان یوکرائن میں سن 1505 کے لگ بھگ پیدا ہوئیں. اس کا اصلی نام روکسلانہ ‘ Roxlena‘ تھا. تاتاریوں نے اس کے علاقے پر حملے کے دوران اس کو قیدی بنا لیا. پھر وہ بحیثیت غلام بکتی بکاتی آخرکار استنبول میں عثمانی حرم تک پہنچ گئیں. یہ ان دنوں کی بات ہے جب شہزادہ سلیمان صوبہ مانیسا کے گورنر تھے. یہی ان کی ایک کنیز ماہ دوراں تھیں. ماہ دوراں کا ایک بیٹا مصطفیٰ تھا.  ماہ دوراں   ایک سردار کی بیٹی اور شہزادے کی محبوب کنیز تھیں. جسے آپ نے گل بہار کا لقب دیا. 1520 میں سلطان سلیم اول کی وفات کے بعد شہزاد سلیمان بادشاہ بن گئے. اور سلطنت کے ساتھ ساتھ سلطانی حرم بھی ان سلطان سلیمان کے اختیار میں آگیا.
حرم کی سب سے طاقتور عورت سلطان سلیمان کی ماں عائشہ حفصہ خاتون تھیں. جنہیں والدہ سلطان کا لقب حاصل تھا. اس کے بعد نمبر آتا تھا سلطان کی چہیتی بیوی ماہ دوراں کا. جو کہ ایک شہزادے کی ماں بھی تھیں. لیکن روکسلانہ کی اس حرم میں آمد نے سب کچھ بدل ڈالا. اور صدیوں سے چلے آرہے رسم و رواج بھلا دیئے گئے. مورخین لکھتے ہیں کہ روکسلانہ کوئی اتنی خوبصورت نہیں تھیں کہ جتنی سلطان کی باقی کنیزیں.لیکن جس چیز نے سلطان کو اپنا  گرویدہ بنایا وہ تھی اس کی شوخ و چنچل طبعیت، اس کا حس مزاح اور اس کی ذہانت. اسی مناسبت سے  سلطان سلیمان نے اسے خرم یعنی خوش مزاج  کا لقب دیا.جو ترکی زبان میں حریم بن گیا. پھر 1521 میں حریم سلطان نے ایک بیٹے محمد کو جنم دیا تو یکایک یہ سلطنت کی تیسری طاقتور خاتون بن گئیں. اور آنے والے مزید چار سالوں میں حریم سلطان کے مزید چار بچے اور ہوئے. یہ  صدیوں سے چلے آ رہے اس قانون کی خلاف ورزی تھی کہ جس کے تحت ایک کنیز صرف ایک ہی بچے کو جنم دے سکتی تھی.  لیکن سلطان سلیمان   عالیشان  کے آگے کس کی چل سکتی تھی. اب سلطان سلیمان اپنی پوری توجہ حریم سلطان کو دینے لگا. یہ دیکھ کر ماہ دوراں حریم سلطان سے شدید حسد میں مبتلا ہوگئی. چنانچہ ماہ دوراں اور حریم سلطان کے بیچ ایک شدید چپقلش شروع ہوگئی. دونوں کی جانب سے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی پوری پوری کوشش کی جاتی.  مورخین کے مطابق دونوں طاقتور خواتین نے ایک دوسرے پر جانی حملے بھی کروائے. اس دوران والدہ سلطان حفصہ خاتون نے اس لڑائی پر قابو پانے کی ہرممکن کوشش کی. 

sultan-suleiman-and-Hurrem-sultan

  Hurrem Sultan Detailed History in Urdu :

سن 1533 میں ماہ دوراں کا بیٹا مصطفیٰ سلطنت کا ولی عہد قرار پایا. اس سے اگلے سال والدہ سلطان حفصہ خاتون بھی وفات پاگئی. حالات ہر طرح سے حریم سلطان کے خلاف تھے لیکن حریم سلطان نے اپنی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے سلطان کو اپنا ایسا گرویدہ بنایا کہ سلطان نے حریم سے شادی کرکے باقاعدہ بیوی بنا لیا. عثمانیوں میں کنیزوں سے شادی پر ممانعت تھی سو یوں ایک اور رسم کا حریم سلطان کے ہاتھوں خاتمہ ہوا. پھر ایک عجیب و غریب واقعہ ہوا جس کی مثال تاریخ عثمانی میں نہیں ملتی، سلطان سلیمان نے اپنی تمام کنیزوں سے قطع تعلق کرلیا. اور صرف حریم سلطان کے پاس جانے لگے. اس محبت نے اب عشق کی صورت اختیار کرلی تھی. سلطان کو حریم سے ذرا سی دوری بھی برداشت نہیں ہوتی تھی. اور وہ اس کے فراق میں شعر و شاعری کیا کرتے تھے. پھر ایک دن حرم سرائے جسے پرانا محل بھی کہا جاتا تھا اس میں اچانک آگ لگ گئی. کچھ مورخین کے مطابق یہ اگ حریم نے خود لگوائی تھی تاکہ وہ توپ کاپی محل میں سلطان کے پاس منتقل ہوسکے، سلطان محمد فاتح کے دور سے یہ قانون تھا کہ کوئی عورت حکومتی عمارت میں داخل نہیں ہو گی، لیکن حریم سلطان کے ہاتھوں یہ قانون بھی پاش پاش ہوا. اور وہ توپ کاپی محل میں رہنے لگیں. اس طرح وہ سلطان پر مزید حاوی ہونے لگیں. ایک دن  ایسا بھی آیا کہ عسکری اور خارجی امور پر سلطان کو مشورے دینے لگی. یہی سے سے شروعات ہوئی اس دور کی جسے تاریخ میں سلطنت خواتین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. ترک مورخین لکھتے ہیں کہ وہ عوام میں جادوگرنی کے نام سے مشہور تھیں. ایسا ممکن ہے کہ وہ سلطان سلیمان کو اپنے قابو میں رکھنے کے لئے ان پر کالا جادو بھی  کرواتی ہوں. کیونکہ عوام میں مشہور تھا کہ حریم سلطان حکیموں سے جانوروں کی ہڈیاں وغیرہ خریدتی ہیں جنہیں وہ جادو ٹونے میں استعمال کرسکے.

Hurrem-Sultan-history-urdu

 Extra History Of  Hurrem Sultan in Urdu :

 وقت گزرتا رہا اور بچے جوان ہوتے گئے. لیکن ماہ دوراں کا بڑا بیٹا مصطفیٰ حریم سلطان کے لئے ڈراؤنا خواب بنا رہا چونکہ مصطفیٰ ولی تھا، ترکوں میں یہ رسم چلی آرہی تھی کہ سلطان تخت نشین ہوتے ہی اپنے  تمام بھائیوں کا قتل کروا دیتا. اس لئے حریم سلطان کو اپنے بیٹوں اور اپنا مستقبل تاریک نظر آتا تھا. وہ کسی بھی صورت مصطفیٰ کو راستے سے ہٹانا چاہتی تھیں. اس راہ میں سے سے بڑی رکاوٹ وزیراعظم ابراہیم پاشا تھے جو سلطنت کے دوسرے طاقتور ترین آدمی تھے. حریم سلطان نے سلطان سلیمان کے کان بھر بھر کے اسے مجبور کیا کہ وہ ابراہیم پاشا کو قتل کروا دیں. اور سلطان سلیمان نے ایسا ہی کیا. اس کے بعد اپنے داماد رستم پاشا کو وزیراعظم کے عہدے پر فائز کروا دیا. رستم پاشا نے ایک طرف سلطان سلیمان کو شہزادے مصطفیٰ کے خلاف ورغلایا. جبکہ دوسری شہزادے مصطفیٰ کو بھی اپنے باپ سے بدظن کرنے کی کوشش کی.

Shehzada-mustafa

 Who Was Hurrem Sultan :

شہزادہ مصطفیٰ بہت ہی لائق اور عقلمند لڑکا تھا، اور اپنے باپ سے بےحد محبت کرتا تھا. مگر سلطان سلیمان رستم پاشا اور حریم سلطان کی باتوں میں آگیا. سلطان سلیمان 1553 میں ایران پر حملہ آور ہوا، شہزادہ مصطفیٰ اس موقع پر اپنے باپ کی  مدد کو پہنچا، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ موت اس کا  انتظار کررہی ہے. سلطان سلیمان سمجھا کہ شہزادہ مصطفیٰ اس پر حملہ کرنے کی غرض سے یہاں آیا ہے چنانچہ اسے دھوکہ سے قتل کروا دیا گیا. یوں اس المیہ نے جنم لیا جو سلطنت عثمانیہ کے زوال کا سبب بنا. مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ شہزادہ مصطفیٰ ایک دلیر جنگجو اور عقلمند حکمران بنتا، تو سلطنت اس کی سربراہی می‍ں عروج کی مزید منازل طے کرتی. لیکن مکافات عمل کے تحت حریم سلطان بھی اپنی زندگی میں اپنے کسی بیٹے کو سلطان بنتا ناں دیکھ سکی. ایک عورت کے زیرِ اثر سلطنت کے فیصلے کرنے والے سلطان سلیمان کا بڑھاپا بھی اچھا نہیں گزرا. سب سے ہونہار بیٹا خود وہ مارچکے تھے. باقی دو بیٹے محمد اور جہانگیر قدرتی موت مرگئے. باقی بچے دو بیٹوں بایزید اور سلیم کے درمیان بھی خانہ جنگی شروع ہوگئ. جوکہ 8 سال جاری رہنے کے بعد سلطان سلیم کی تخت نشینی پر ختم ہوئی. روکسلانہ المعروف حریم سلطان کے بطن سے پیدا ہونے والے شہزادے عیش و عشرت اور آرام پرستی کے دلدادہ ثابت ہوئے. اور اپنے وقت کی سپرپاور مسلم سلطنت کے زوال کا سبب بنے. جو کام یورپ کے بڑے بڑے سورما ناں کرپائے وہ کام یورپ کے بازاروں میں بکنے والی ایک کنیز نے کر دیکھایا اور تین براعظموں پر پھیلی سلطنت کی تباہی کا سبب بنی.

Hurrem-sultan-Tomb

 History Of Hurrem Sultan in Urdu :

حریم سلطان کا انتقال 15 اپریل 1558 کو ہوا. اس کو جنت کے باغ کا عکس پیش کرتے ہوئے ایک ایزنک ٹائلوں سے سجے ہوئے گنبد نما مقبرے میں دفن کیا گیا. جو کہ اس کی مسکراہٹ اور مسرت بخش طبیعت کی تعظیم کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ مقبرہ سلیمان مسجد کے صحن سے متصل ہے.

Hurrem-sultan-grave

دوستو یہ تھا آج کا آرٹیکل.کیسا لگا؟ اگر آپ سب دوستوں کو پسند آیا تو اسے شیئر لازمی کریں. شکریہ

مزید کچھ آرٹیکلز کے لنک  یہ ہیں;

سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے سلطان سے لیکر آخری سلطان تک کی معلومات، ان کی حکمرانی کا دورانیہ، ان کے والدین کے نام اور تاریخ پیدائش و وفات  اور سلاطین کی تصاویر کے لئے اس لنک پر کلک کریں. 

سلطنت عثمانیہ کے سلاطین کی فہرست


 کرولش عثمان میں آنے والے نئے صوفی کردار “کمرال ابدال”  کے متعلق آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے لنک پر کلک کریں.

کمرال ابدال


 سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے فرمانروا سلطان عثمان غازی کے متعلق آرٹیکل کا لنک یہ ہے. 


سلطنتِ عثمانیہ کے دوسرے فرمانروا اورخان غازی کے متعلق آرٹیکل کا لنک یہ ہے. 


سلطنتِ عثمانیہ کے تیسرے حکمران سلطان مراد اول کے متعلق آرٹیکل کا لنک یہ ہے. 

سلطنتِ عثمانیہ کے چوتھے فرمانروا بایزید یلدرم اور امیر تیمور لنگ کے بارے میں آرٹیکل پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں. 

سلطان  بایزید یلدرم

سلطنتِ عثمانیہ کے پانچویں  حکمران سلطان محمد  اول کے متعلق آرٹیکل کا لنک یہ ہے. 



یاویز سلطان سلیم (سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے خلیفہ) کے متعلق پڑھنے کے لئے اور ترگت جو کہ یاویز سیریل میں سلطان سلیم کا کردار ادا کرنے جارہے ہیں، یہ سب کچھ معلومات اس آرٹیکل میں موجود ہے، لنک یہ ہے

یاویز  سلطان  سلیم


سلطنتِ عثمانیہ کے امیر البحر ایڈمرل پاشا “خیرالدین باربروسہ” کے متعلق ایک جامع آرٹیکل کا لنک یہ ہے. 

By Kashif

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *